اَلحمدُلِلّٰہ! تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر دینی تحریک دعوتِ اسلامی نے بھی اپنے جامعاتُ المدینہ کے طلبہ کے دِلوں میں خوفِ خدا اور محبتِ اِلٰہی کی شمع روشن کرنے کے لئے نیک اعمال سے لبریز ایسا جدول عطا کیا ہے جس پر عمل کر نے سے طالبِ علم کا دِل خوفِ خدا، مَحبتِ اِلٰہی اور عشقِ مصطفیٰ سے روشن ہوسکتا ہے اور وہ عالمِ باعمل بن کر اپنی اور سار ی دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کر نے کے جذبے سے سرشار ہو سکتا ہے۔ یہ جدول امیرِ اہلِ سنّت حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کے عطا کردہ رسالہ ”نیک اعمال“ کی عکاسی کرتا ہے۔
آئیے اب دیکھتے ہیں کہ جامعاتُ المدینہ میں پڑھنے والے طلبہ کو اپنے شب و روز گزارنے کا کیا جدول دیا گیا ہے:
نمازِ تہجد
اَلحمدُلِلّٰہ اس جدول میں جامعاتُ المدینہ میں علمِ دین حاصل کرنے والے خوش نصیب مقیم طلبہ کونمازِ فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلے ہی بیدار ہونےکی ترغیب دلائی گئی ہے اور انہیں نمازِ تہجدادا کرنےکی رغبت بھی دلائی گئی ہے۔ یہ نماز گناہوں کا کفارہ، نیک لوگوں کا طریقہ اور اللہ پاک کا قرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے،چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابو اُمامہ باہلی رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں: تمہارے لئے لازم ہے کہ رات کو عبادت کیا کرو کیونکہ یہ گزشتہ نیک لوگوں کا طریقہ ہے، بےشک رات کا قیام اللہ پاک کے قرب کا سبب، گناہوں کا کفارہ، جسمانی بیماریوں کو دُور کرنے والا اور گناہوں سے روکنے والا ہے۔ (شعب الایمان،ج 3، ص 127، حدیث: 3087)
مسلمانوں کونمازِفجرکےلئےجگانا
جامعاتُ المدینہ کےاس جدول میں طلبہ کو اذانِ فجر کے بعدجامعۃُ المدینہ سے باہر جاکر علاقے کے مسلمانوں کو نماز ِ فجر کے لئے بیدار کرنے کا ذہن دیا گیا ہے، جس کی برکت سے ایک تعداد نمازِ فجر کے لئے مساجد کا رُخ کرتی ہے اور مسلمانوں کو نماز کے لئے جگانا سنّت سے ثابت ہے،حضرتِ سیِّدُنا ابو بکرہ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں: میں رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ نمازِ فجر کے لئے نکلا تو آپ سوتے ہوئے جس شخص پر بھی گزرتے اسے نماز کے لئے اُٹھا دیتے۔(ابوداؤد، 2/33، حدیث 1264)
نمازِ فجر باجماعت ادا کرنا
طلبہ کو نمازِ فجر سے قبل مسجد میں حاضر ہو کرسنّتِ قبلیہ ادا کرنے اورنمازِ فجر باجماعت پہلی صف میں ادا کرنے کی ترغیب دلائی گئی۔احادیثِ مبارکہ سےباجماعت اور پہلی صف میں نماز پڑھنے کے متعلق 2فرامینِ مصطفےٰ ملاحظہ کیجیئے:(1)نمازِ باجماعت تنہا پڑھنے سے ستائیس 27 درجہ بڑھ کر ہے۔(بخاری، 1/ 232، حدیث: 645) (2)اگر لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ صفِ اوّل میں نماز پڑھنے کا کس قدر ثواب ہے تو ضرور اس پر قرعہ اندازی کرتے۔ (بخاری،1/224، حدیث: 615)
تفسیرسننااورسنانا
نمازِ فجر ادا کرنے کے بعدجمع ہوکر ”کنزُالایمان شریف“ سے تین آیات کی تلاوت، ترجمہ اور صراطُ الجنان یا خزائنُ العرفان سے تفسیر دیکھ کر پڑھنے اور سننے کی ترغیب دی گئی ہے، فیضانِ سنّت سے ترتیب وار چار صفحات کا درس اور منظوم شجرۂ قادریہ رضویہ عطّاریہ پڑھنے کی بھی ترغیب ہے۔
ناشتہ
اس جدول میں طلبہ کو دُعائے مدینہ سے تقریباً 41 منٹ قبل علمِ دین حاصل کرنے اور عبادت پر قوت حاصل کرنے کی نیت سے ناشتہ کر نےکی سوچ دی گئی ہے۔
نمازِ اِشراق و چاشت
ناشتے کے بعد طلبہ کو اِشراق و چاشت کی نمازیں پڑھنے کی سوچ بھی دی گئی ہے، اشراق کی نماز پڑھنے کا ثواب حج و عمرہ کے برابر ہے، چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:جو فجر کی نماز کے بعد ذکر میں مشغول رہا یہاں تک کہ آفتاب بلند ہو گیا پھر دو رکعتیں پڑھیں تو اسے حج اور عمرہ کا ثواب ملے گا۔(ترمذی، 2/100، حدیث:586) نیز چاشت کی نماز پڑھنے والے کے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں جیساکہ حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ حُضُور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو چاشت کی دو رَکعتیں پابندی سے ادا کرتا رہے اس کے گناہ مُعاف کردئیے جاتے ہیں اگرچِہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔
(ابن ماجہ، 2/153، 154، حدیث:1382)
دعائے مدینہ
نمازِ اِشراق و چاشت پڑھنے کے بعد دعائے مدینہ کی ترکیب ہوتی ہے، عام طور پر اسے مدارس و اسکولز میں اسمبلی کہا جاتا ہے۔ درجہ میں حاضری سے کم و بیش 19منٹ قبل دعائے مدینہ کا آغاز ہوتا ہے جس کی ابتدا تلاوتِ قراٰنِ پاک سے ہوتی ہے اور پھر اِس میں دُعائیہ اشعار وغیرہ پڑھے جاتے ہیں۔
درجہ میں شر کت
دعائے مدینہ کے اختتام پر دعا ہوتی ہے اور پھر طلبہ قطار کی صورت میں اپنے اپنے درجوں میں جاکر حصول ِ علمِ دین میں مشغول ہوجاتے ہیں۔
دوپہر کا کھانا اور نمازِ ظہر کی ادائیگی
چھٹی کے بعد طلبہ دوپہر کا کھانا کھاتے ہیں۔ اِس کے بعد نمازِ ظہر کی ادائیگی کے لئے مسجد میں حاضر ہوکر نمازِ ظہر ادا کرتے ہیں۔
درسِ فیضانِ سنّت
نمازِ ظہر ادا کرنے کے بعد طلبہ درسِ فیضانِ سنّت میں شریک ہوتے ہیں۔ جس میں درس دینے یا سننے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔
دوپہر کا تعلیمی حلقہ
نماز ِظہر اور درسِ فیضانِ سنّت سے فارغ ہونے کے بعد طلبہ کے لئے تعلیمی حلقوں کا جدول ہوتا ہے۔جس کا دورانیہ گرمی اور سردی کے موسم میں کچھ نہ کچھ بدلتا رہتا ہے۔ طلبہ تعلیمی حلقوں میں علم کی تکرار کرتے ہیں جس کی اہمیت کا اندازہ امام زُہری رحمۃُ اللہِ علیہ کے اس فرمان سے لگایا جاسکتا ہے:علم کی آفت بھول جانا اور اس کے تکرار کو ترک کر دینا ہے۔(دارمی،1/158، حدیث: 621)
وقفۂ آرام اور نمازِ عصر
تعلیمی حلقوں کے بعد طلبہ آرام کرتے ہیں، اذانِ عصر سے کم وبیش12 منٹ قبل انہیں بیدار کیا جاتا ہے اور پھر یہ وُضو وغیرہ سے فراغت کے بعد مسجد میں حاضر ہوکر نمازِ عصر باجماعت ادا کرتے ہیں۔
نیکی کی دعوت
اس جدول میں نمازِ عصر ادا کرنے کے بعد طلبہ کونیکی کی دعوت، چوک درس اور دیگر نیک اعمال میں نمازِ مغرب تک مصروف رہنے کی ترغیب ہے۔
نمازِ مغرب اور درسِ فیضانِ سنّت
پھر طلبہ نمازِ مغرب باجماعت ادا کرتے اور نمازِ مغرب کے بعد ہونے والے درسِ فیضانِ سنّت میں شرکت کی سعادت پاتے ہیں۔ اس جدول میں طلبہ کو درس کے اختتام پر دو نئے اسلامی بھائیوں پر کم اَزکم 12 منٹ انفرادی کوشش کرنے اور اُن کا نام و پتا لکھنے اور اُنہیں دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ کرنے کی ترغیب دِلائی ہے۔
رات کا کھانا اور نمازِ عشاء
طلبہ کو عشا کی اذان سے قبل ہی رات کے کھانے سے فارغ ہوجانے اور پھر مسجد میں جا کر نمازِ عشا باجماعت ادا کرنے کا ذہن دیا گیا ہے۔
سورۂ ملک
اس جدول میں نمازِ عشا سے فارغ ہو نے کے بعد طلبہ کو سورۂ ملک شریف کی تلاوت کرنے یا سننے کی سعادت پانے کا بھی کہاگیاہے۔حدیثِ پاک میں ہے: یہ اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کرے گی۔(ابو داؤد،2/81، حدیث: 1400)